
حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر پیغمبر ہیں۔ آپ ان پانچ بڑے پیغمبروں میں سے ہیں جن کو اولوالعزم کہا جاتا ہے۔ آپ کو کلیم اللہ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ آپ وہ واحد پیغمبر ہیں جنہوں نے کوہ طور پر براہ راست اللہ تعالیٰ سے کلام کیا۔ آپ کا واقعہ قرآن پاک میں سب سے زیادہ تفصیل کے ساتھ بیان ہوا ہے، تقریباً 70 سے زیادہ مقامات پر آپ کا ذکر آیا ہے تاکہ مومن اس سے عبرت اور نصیحت حاصل کریں۔
*پیدائش اور فرعون کا خواب*
مصر کا بادشاہ فرعون بہت ظالم اور متکبر تھا۔ وہ خود کو سب سے بڑا خدا کہلواتا تھا۔ بنی اسرائیل جو حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد تھے، مصر میں غلام بنے ہوئے تھے۔ ایک رات فرعون نے ایک خوفناک خواب دیکھا کہ بیت المقدس کی طرف سے ایک آگ کا شعلہ آیا ہے جس نے تمام قبطیوں یعنی فرعون کی قوم کو جلا کر خاک کر دیا ہے لیکن بنی اسرائیل کو کچھ نہیں کہا۔
فرعون گھبرا کر اٹھا اور اس نے اپنے نجومیوں اور کاہنوں کو بلایا۔ انہوں نے کہا کہ عنقریب بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہونے والا ہے جو تیری بادشاہت کو ختم کر دے گا اور تجھے ہلاک کر دے گا۔
یہ سن کر فرعون نے حکم دیا کہ بنی اسرائیل میں جو بھی لڑکا پیدا ہو اسے فوراً قتل کر دیا جائے اور لڑکیوں کو زندہ رہنے دیا جائے۔ اس ظالمانہ حکم پر ہزاروں معصوم بچوں کو قتل کر دیا گیا۔
اسی دوران اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو پیدا فرمایا۔ جب آپ پیدا ہوئے تو آپ کی والدہ بہت پریشان ہوئیں کہ اب میرے بچے کو بھی سپاہی قتل کر دیں گے۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں الہام کیا کہ تم اس بچے کو ایک صندوق میں بند کر کے نیل کے دریا میں بہا دو اور ڈرو نہیں، ہم اسے تمہارے پاس واپس لوٹا دیں گے اور اسے پیغمبروں میں سے بنائیں گے۔
ماں نے اللہ کے حکم پر عمل کیا۔ وہ صندوق بہتا ہوا سیدھا فرعون کے محل کے گھاٹ پر جا پہنچا۔ فرعون کی بیوی حضرت آسیہ رضی اللہ عنہا جو کہ بہت نیک خاتون تھیں، انہوں نے اس صندوق کو کھولا تو اس میں ایک نہایت خوبصورت بچہ تھا۔ ان کو اس بچے سے بے پناہ محبت ہو گئی۔ انہوں نے فرعون سے کہا کہ اسے قتل مت کرو، شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنا لیں۔ اس طرح اللہ نے حضرت موسیٰ کی پرورش دشمن کے گھر میں ہی کروا دی۔
پھر اللہ نے ایسا انتظام کیا کہ حضرت موسیٰ نے کسی دائی کا دودھ پینے سے انکار کر دیا۔ آپ کی بہن جو چھپی ہوئی پیچھے آ رہی تھیں، انہوں نے کہا کہ میں ایک ایسی عورت کو جانتی ہوں جو اس بچے کو دودھ پلا سکتی ہے۔ وہ عورت کوئی اور نہیں بلکہ آپ کی اپنی سگی ماں تھی۔ اس طرح اللہ نے حضرت موسیٰ کو ان کی ماں کی گود میں واپس پہنچا دیا۔
*مدین کی طرف ہجرت*
جب حضرت موسیٰ جوان ہوئے تو آپ میں بڑی طاقت تھی۔ ایک دن آپ نے دیکھا کہ ایک قبطی یعنی فرعونی ایک اسرائیلی پر ظلم کر رہا ہے۔ آپ نے اس اسرائیلی کی مدد کے لیے اس قبطی کو ایک مکا مارا۔ اللہ نے آپ کے ہاتھ میں اتنی طاقت رکھی تھی کہ وہ قبطی اسی ایک مکے سے مر گیا۔ آپ نے اللہ سے معافی مانگی۔
اگلے دن پھر وہی اسرائیلی کسی اور سے لڑ رہا تھا اور آپ کو مدد کے لیے پکارا۔ آپ نے فرمایا تو تو بڑا ہی جھگڑالو ہے۔ لیکن جب آپ اس کی مدد کے لیے آگے بڑھے تو اس نے سمجھا کہ آپ اسے مارنے آ رہے ہیں، اس نے شور مچا دیا کہ اے موسیٰ کیا تم مجھے بھی ویسے ہی قتل کرنا چاہتے ہو جیسے کل ایک شخص کو قتل کیا تھا۔
یہ بات فرعون تک پہنچ گئی۔ فرعون نے آپ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ ایک نیک شخص نے آ کر آپ کو خبر دی کہ فرعون کے درباری آپ کو قتل کرنے کا مشورہ کر رہے ہیں، آپ یہاں سے نکل جائیں۔ آپ فوراً مصر سے نکل کر مدین کی طرف چلے گئے۔
مدین میں آپ نے دیکھا کہ دو لڑکیاں اپنی بکریوں کو لیے کھڑی ہیں اور لوگ اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے ہیں۔ آپ نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا ہمارے والد بوڑھے ہیں اس لیے ہم آتی ہیں، ہم اس وقت تک پانی نہیں پلاتیں جب تک سارے مرد چلے نہ جائیں۔ آپ نے اکیلے ہی بھاری پتھر ہٹا کر ان کی بکریوں کو پانی پلا دیا۔
وہ دونوں لڑکیاں حضرت شعیب علیہ السلام کی بیٹیاں تھیں۔ حضرت شعیب نے آپ کی امانت داری دیکھ کر آپ کو 8 سال تک بکریاں چرانے کی شرط پر اپنی ایک بیٹی کا نکاح آپ سے کر دیا اور آپ نے 10 سال مکمل کیے۔
*نبوت کا ملنا اور دو عظیم معجزے*
10 سال بعد جب آپ اپنی بیوی کو لے کر مصر واپس آ رہے تھے تو راستے میں کوہ طور کے پاس آپ کو ٹھنڈ لگی اور آپ نے دور ایک آگ دیکھی۔ آپ اس آگ کی طرف گئے تاکہ وہاں سے کوئی انگارہ لے آئیں۔ جب آپ وہاں پہنچے تو یہ آگ نہیں بلکہ اللہ کا نور تھا۔
اللہ تعالیٰ نے وہاں آپ کو نبوت عطا فرمائی اور فرمایا اے موسیٰ میں ہی تمہارا رب ہوں۔ اپنی جوتیاں اتار دو تم مقدس وادی طویٰ میں ہو۔ اللہ نے آپ سے پوچھا اے موسیٰ تمہارے دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟ آپ نے کہا یہ میرا عصا ہے۔ اللہ نے فرمایا اسے زمین پر ڈال دو۔ جب آپ نے ڈالا تو وہ ایک بہت بڑا سانپ بن گیا۔ آپ ڈر کر پیچھے ہٹ گئے۔ اللہ نے فرمایا ڈرو نہیں۔
اللہ نے آپ کو دو معجزے دیے۔ پہلا عصا جو سانپ بن جاتا تھا اور دوسرا ید بیضا یعنی آپ اپنا ہاتھ بغل میں ڈال کر نکالتے تو وہ سورج کی طرح چمکنے لگتا۔ اللہ نے فرمایا فرعون کے پاس جاؤ وہ بہت سرکش ہو گیا ہے۔ آپ نے کہا میرے بھائی ہارون کو بھی میرا وزیر بنا دے کیونکہ وہ مجھ سے زیادہ فصیح ہے۔ اللہ نے آپ کی دعا قبول کر لی۔
*فرعون اور جادوگروں کا تاریخی مقابلہ*
حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما السلام فرعون کے دربار میں گئے اور فرمایا کہ اللہ پر ایمان لے آؤ اور بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے دو۔ فرعون نے تکبر سے کہا میں ہی تمہارا سب سے بڑا رب ہوں۔ کیا تم وہی موسیٰ نہیں ہو جسے ہم نے اپنے گھر میں پالا تھا؟
حضرت موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر پھینکا تو وہ بہت بڑا اژدھا بن گیا۔ فرعون نے کہا یہ تو جادو ہے، ہم بھی جادوگروں کو بلائیں گے۔
مقابلے کا دن طے ہوا۔ عید کا دن تھا اور دن چڑھے کا وقت۔ میدان میں ہزاروں لوگ جمع تھے۔ فرعون اپنے ملک کے سب سے ماہر 70 ہزار جادوگروں کو لے آیا۔ جادوگروں نے کہا اے موسیٰ پہلے تم پھینکو گے یا ہم پھینکیں؟ آپ نے فرمایا تم ہی پہلے پھینکو۔
جادوگروں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر پھینکی تو وہ سب سانپ بن کر دوڑنے لگیں۔ لوگ ڈر گئے۔ حضرت موسیٰ بھی تھوڑا گھبرائے۔ اللہ نے فرمایا ڈرو نہیں، تم ہی غالب رہو گے۔
پھر حضرت موسیٰ نے اپنا عصا پھینکا تو وہ ایک بہت بڑا اور خوفناک اژدھا بن گیا اور اس نے جادوگروں کے بنائے ہوئے تمام سانپوں کو ایک ایک کر کے نگل لیا۔
جادوگر سمجھ گئے کہ یہ جادو نہیں ہو سکتا، یہ تو رب العالمین کا معجزہ ہے۔ وہ سب کے سب سجدے میں گر پڑے اور پکار اٹھے کہ ہم موسیٰ اور ہارون کے رب پر ایمان لائے۔ فرعون یہ دیکھ کر آگ بگولہ ہو گیا۔ اس نے کہا میں تمہارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا اور تمہیں سولی پر لٹکا دوں گا۔ لیکن جادوگر ایمان پر ثابت قدم رہے اور شہادت پا گئے۔
*سمندر کا پھٹنا اور فرعون کی ہلاکت*
آخر کار اللہ نے حضرت موسیٰ کو حکم دیا کہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے نکل جاؤ۔ حضرت موسیٰ 6 لاکھ بنی اسرائیل کو لے کر نکلے۔ جب فرعون کو خبر ہوئی تو وہ اپنے دس لاکھ لشکر کے ساتھ پیچھے دوڑا۔
جب بنی اسرائیل بحر قلزم کے کنارے پہنچے تو آگے سمندر تھا اور پیچھے فرعون کا لشکر۔ بنی اسرائیل گھبرا گئے اور کہنے لگے اب ہم پکڑے جائیں گے۔ حضرت موسیٰ نے فرمایا ہرگز نہیں، میرا رب میرے ساتھ ہے وہ راستہ دکھائے گا۔
اللہ نے حکم دیا اے موسیٰ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ جیسے ہی آپ نے عصا مارا تو سمندر پھٹ گیا اور اس میں 12 راستے بن گئے، ہر قبیلے کے لیے ایک راستہ۔ پانی پہاڑوں کی طرح کھڑا ہو گیا اور بیچ میں خشک راستے بن گئے۔ بنی اسرائیل آسانی سے دوسری طرف نکل گئے۔
جب فرعون اپنے لشکر کے ساتھ ان راستوں میں داخل ہوا تو جیسے ہی وہ بیچ میں پہنچا، اللہ نے سمندر کو حکم دیا کہ مل جاؤ۔ سمندر واپس مل گیا اور فرعون اپنے تمام لشکر سمیت غرق ہو گیا۔ مرتے وقت فرعون نے کہا میں بنی اسرائیل کے رب پر ایمان لاتا ہوں، لیکن اس وقت اس کا ایمان قبول نہ ہوا۔
*اس واقعہ سے حاصل ہونے والا سبق*
اس واقعہ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ تکبر اور ظلم کا انجام ہمیشہ برا ہوتا ہے۔ چاہے انسان کتنا ہی طاقتور کیوں نہ بن جائے، وہ اللہ کی پکڑ سے نہیں بچ سکتا۔ اللہ اپنے نیک بندوں کی ہمیشہ مدد کرتا ہے۔ فرعون کی لاش آج بھی مصر کے عجائب گھر میں عبرت کے لیے محفوظ ہے جیسا کہ قرآن میں اللہ نے فرمایا تھا کہ ہم تیری لاش کو محفوظ رکھیں گے تاکہ تو بعد میں آنے والوں کے لیے نشانی بنے۔