حضرت یونسؑ کا واقعہ - مچھلی کے پیٹ میں 40 دن تک کیسے زندہ رہے؟*

Hazrat Younus AS Ka Waqia - Machli Ke Pet Me 40 Din

حضرت یونس علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ پیغمبر ہیں۔ آپ کو ذوالنون اور صاحب الحوت یعنی مچھلی والے نبی کے لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ آپ کا ایمان افروز واقعہ قرآن پاک کی تین سورتوں، سورہ یونس، سورہ الانبیاء اور سورہ الصافات میں بڑی تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ یہ واقعہ ہمیں سچی توبہ، صبر اور اللہ کی رحمت کی وسعت کا درس دیتا ہے۔


*نینوا کی قوم کی طرف بعثت*

حضرت یونس علیہ السلام کو عراق کے قدیم اور مشہور شہر نینوا کی طرف نبی بنا کر بھیجا گیا۔ یہ شہر اس وقت کے لحاظ سے بہت بڑا تھا اور یہاں ایک لاکھ سے زیادہ لوگ آباد تھے۔ یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر بتوں کی پوجا کرتے تھے اور ہر طرح کے گناہوں میں ڈوبے ہوئے تھے۔

حضرت یونس علیہ السلام نے ان کو 33 سال تک دن رات اللہ کا پیغام پہنچایا۔ آپ نے فرمایا کہ اے میری قوم! صرف ایک اللہ کی عبادت کرو اور بت پرستی چھوڑ دو، ورنہ اللہ کا سخت عذاب تم پر آئے گا۔ لیکن وہ متکبر قوم باز نہ آئی اور آپ کا مذاق اڑاتی رہی۔

آخر آپ بہت دل برداشتہ ہوئے اور آپ نے اللہ کی اجازت کا انتظار کیے بغیر ہی بستی کو چھوڑ دینے کا ارادہ کر لیا۔ آپ نے قوم کو کہا کہ تین دن کے اندر اندر تم پر عذاب آ جائے گا اور یہ کہہ کر آپ وہاں سے چلے گئے۔


*قوم نینوا کی سچی توبہ - تاریخ کا انوکھا واقعہ*

حضرت یونس علیہ السلام کے جاتے ہی تیسرے دن آسمان پر عذاب کے آثار نمودار ہو گئے۔ پورا آسمان کالا ہو گیا اور ہر طرف دھواں ہی دھواں چھا گیا۔ قوم سمجھ گئی کہ نبی کی بات سچی تھی اور اب عذاب آنے والا ہے۔

اس وقت انہیں ایک سمجھدار بوڑھے نے مشورہ دیا کہ سب لوگ جنگل میں نکل جاؤ اور اللہ سے سچے دل سے معافی مانگو۔ پوری قوم، مرد، عورتیں، چھوٹے بچے اور اپنے جانوروں کو بھی لے کر میدان میں نکل گئی۔ انہوں نے اپنے بچوں کو ماؤں سے جدا کر دیا تاکہ سب کے رونے سے اللہ کو رحم آ جائے۔ سب نے پھٹے پرانے کپڑے پہنے اور رو رو کر اللہ سے توبہ کرنے لگے۔

اللہ تعالیٰ کو ان کی یہ عاجزی اتنی پسند آئی کہ اس نے ان سے وہ عذاب ٹال دیا۔ قرآن پاک کہتا ہے کہ یہ تاریخ کی واحد قوم تھی جس سے عذاب سر پر آنے کے بعد بھی ہٹا دیا گیا۔ اللہ فرماتا ہے کہ جب انہوں نے ایمان قبول کر لیا تو ہم نے ان سے رسوائی کے عذاب کو ہٹا دیا اور انہیں ایک وقت تک زندگی سے فائدہ اٹھانے دیا۔


*کشتی کا سفر اور قرعہ اندازی*

دوسری طرف حضرت یونس علیہ السلام بستی چھوڑ کر ایک کشتی میں سوار ہوئے۔ ابھی کشتی سمندر کے بیچ میں ہی پہنچی تھی کہ سمندر میں ایک خوفناک طوفان آ گیا۔ تیز ہوائیں چلنے لگیں اور کشتی ڈوبنے کے قریب ہو گئی۔

ملاحوں نے کہا کہ لگتا ہے اس کشتی میں کوئی ایسا شخص ہے جو اپنے آقا سے بھاگا ہوا ہے، جس کی وجہ سے طوفان آیا ہے۔ اس زمانے میں رواج تھا کہ ایسے شخص کو سمندر میں پھینک دیا جائے تو طوفان رک جاتا ہے۔

اس کے لیے انہوں نے قرعہ ڈالا۔ اللہ کی قدرت دیکھیں کہ تین بار قرعہ ڈالا گیا اور تینوں بار حضرت یونس علیہ السلام کا ہی نام نکلا۔ آپ سمجھ گئے کہ یہ اللہ ہی کی طرف سے کوئی امتحان ہے۔ آپ نے بغیر کسی خوف کے خود ہی سمندر کی بے رحم موجوں میں چھلانگ لگا دی۔ جیسے ہی آپ سمندر میں کودے، طوفان تھم گیا اور کشتی محفوظ ہو گئی۔


*مچھلی کے پیٹ کے تین اندھیروں میں*

اللہ تعالیٰ نے پہلے سے ہی ایک بہت بڑی مچھلی کو حضرت یونس کے لیے تیار رکھا تھا۔ اللہ نے مچھلی کو حکم دیا کہ میرے نبی یونس کو نگل لو، لیکن خبردار ان کے جسم کو کوئی نقصان نہ پہنچے اور نہ ہی ہڈی ٹوٹے۔ مچھلی نے آپ کو نگل لیا۔

اب آپ تین اندھیروں میں تھے۔ ایک رات کا اندھیرا، دوسرا سمندر کی گہرائی کا اندھیرا اور تیسرا مچھلی کے پیٹ کا اندھیرا۔ اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں جہاں سانس لینا بھی مشکل تھا، وہاں آپ نے اپنے رب کو یاد کیا۔

آپ نے اسی حالت میں وہ عظیم دعا پڑھی جو آج ہر مسلمان کی زبان پر مصیبت کے وقت جاری ہوتی ہے:


*لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْنَ*


ترجمہ: تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ہی ظالموں میں سے ہوں۔

آپ لگاتار 40 دن تک مچھلی کے پیٹ میں اسی دعا کا ورد کرتے رہے۔ فرشتوں نے عرش پر آپ کی آواز سنی اور کہا اے اللہ یہ تو ہمارے نیک بندے یونس کی آواز ہے جو کسی انوکھی جگہ سے آ رہی ہے۔ اللہ نے فرمایا ہاں یہ میرے نبی کی آواز ہے۔


*مچھلی کے پیٹ سے نجات اور کدو کا درخت*

آخر کار اللہ کو اپنے نبی پر رحم آیا اور اس نے مچھلی کو حکم دیا کہ میرے نبی کو کنارے پر اگل دو۔ مچھلی نے حضرت یونس علیہ السلام کو ایک ویران اور خالی جزیرے پر اگل دیا۔

مسلسل 40 دن مچھلی کے پیٹ میں رہنے کی وجہ سے آپ کا جسم بہت کمزور اور نازک ہو چکا تھا، جیسے نومولود بچہ ہو۔ آپ پر مکھیاں بیٹھ رہی تھیں۔ اللہ نے وہیں آپ کے سر کے پاس کدو کا ایک درخت اگا دیا۔ کدو کے بڑے بڑے نرم پتوں نے آپ کو دھوپ سے بچایا اور مکھیوں کو آپ سے دور رکھا۔ اللہ نے ایک جنگلی بکری کو بھی حکم دیا کہ وہ آ کر آپ کو دودھ پلا جایا کرے۔ جب آپ مکمل صحت مند ہو گئے تو وہ درخت سوکھ گیا۔


*واپس قوم میں آمد*

صحت یاب ہونے کے بعد جب آپ واپس اپنی قوم نینوا میں آئے تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ پوری قوم، ایک لاکھ سے زیادہ لوگ آپ کا انتظار کر رہے ہیں اور سب کے سب ایمان لا چکے ہیں۔ آپ اپنی قوم میں دوبارہ آباد ہو گئے اور سب نے خوشحالی سے زندگی گزاری۔


*اس واقعہ سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟*

1.  اللہ کے حکم کا انتظار: ہمیں کبھی بھی جلد بازی نہیں کرنی چاہیے، بلکہ ہر حال میں اللہ کے حکم کا انتظار کرنا چاہیے۔

2.  سچی توبہ کی طاقت: اگر دل سے سچی توبہ کی جائے تو اللہ تعالیٰ بڑے سے بڑا آنے والا عذاب بھی ٹال دیتا ہے۔

3.  دعا یونس کی فضیلت: ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ ہر مشکل اور پریشانی میں یہ دعا کثرت سے پڑھے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو بھی مسلمان اس دعا کے ساتھ دعا مانگے گا، اللہ اس کی دعا ضرور قبول فرمائے گا۔

دوستو، یہ تھا حضرت یونس علیہ السلام کا صبر آزما واقعہ۔ ہمیں چاہیے کہ ہم بھی ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کریں اور مصیبت میں اسی کو پکاریں۔

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی