ماں باپ کی قدر - ایک نافرمان بیٹے کا عبرتناک انجام

Maa Baap ki Qadar Sabaq Amoz Kahani

انسان اس دنیا میں لاکھوں رشتے بناتا ہے، دوست بناتا ہے، محفلیں سجاتا ہے، مگر جو رشتہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے اور سب سے پاکیزہ بنایا ہے وہ ماں باپ کا رشتہ ہے۔ یہ وہ رشتہ ہے جس کی کوئی قیمت نہیں۔ ماں باپ کی قدر اس وقت تک سمجھ میں نہیں آتی جب تک وہ ہمارے پاس ہوتے ہیں۔ جب وہ ہمیں روز ٹوکتے ہیں، ہم سے چھوٹی چھوٹی باتوں پر ناراض ہوتے ہیں تو ہمیں غصہ آتا ہے، لیکن جب وہ اس دنیا سے چلے جاتے ہیں تو پھر صرف اور صرف پچھتاوا رہ جاتا ہے اور ان کی وہی ڈانٹ بھی نعمت لگنے لگتی ہے۔ آج کا یہ سبق آموز واقعہ ہر اس بیٹے اور بیٹی کے لیے ہے جو اپنے ماں باپ کو بھول کر اپنی دنیا میں مست ہو گیا ہے۔


*ایک گاؤں کا واقعہ*

پرانے زمانے کی بات ہے، ایک چھوٹے سے گاؤں میں رشید نام کا ایک لڑکا رہتا تھا۔ اس کے ماں باپ بہت غریب تھے۔ ان کے پاس اپنا کوئی بڑا گھر نہیں تھا، ایک چھوٹا سا کچا گھر تھا۔ لیکن ان کے دل میں اپنے بیٹے کے لیے بہت بڑے خواب تھے۔ اس کے باپ رحمت دین نے ساری زندگی کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلایا۔ وہ دن بھر سخت گرمی میں کھیت میں مزدوری کرتا اور پسینے سے شرابور ہو کر شام کو گھر آتا۔ اور اس کی ماں فاطمہ گاؤں کی عورتوں کے کپڑے سیتی تھی، رات کو دیر تک چرخہ چلاتی تاکہ ان کا بیٹا اچھی تعلیم حاصل کر سکے۔

ماں اکثر خود بھوکی سو جاتی لیکن بیٹے کو پیٹ بھر کر کھلاتی۔ باپ نے اپنے لیے کبھی نیا جوتا نہیں خریدا لیکن بیٹے کے لیے ہر سال اسکول کا نیا بستہ اور کتابیں لاتا۔ ان کی صرف ایک ہی خواہش تھی کہ ہمارا بیٹا بڑا آدمی بنے، صاحب بنے اور ہماری غربت ختم کرے۔

اللہ نے ان کی دعا سن لی۔ وقت گزرا، رشید نے خوب محنت سے پڑھائی کی اور اسے شہر میں ایک بہت بڑی کمپنی میں اچھی نوکری مل گئی۔ وہ گاؤں سے شہر چلا گیا۔ شروع شروع میں تو وہ ہر مہینے گاؤں پیسے بھیجتا تھا، ہر روز اپنی ماں سے فون پر بات کرتا تھا اور کہتا تھا ماں بس کچھ دن کی بات ہے، میں تمہیں شہر لے آؤں گا۔ ماں باپ بہت خوش تھے کہ ان کی محنت رنگ لے آئی۔

پھر رشید کی زندگی میں ایک موڑ آیا۔ اس کی شادی شہر کی ایک امیر گھرانے کی پڑھی لکھی لڑکی سے ہو گئی۔ شادی کے بعد اس کی زندگی بالکل بدل گئی۔ اس کی بیوی کو گاؤں کے رہن سہن سے نفرت تھی۔ وہ کہتی تھی تمہارے ماں باپ گنوار ہیں، ان کو شہر مت لاؤ، ہماری بے عزتی ہوگی۔ آہستہ آہستہ رشید اپنی بیوی کی باتوں میں آ گیا۔

اب رشید کو اپنے پرانے کپڑوں والے، سادہ سے ماں باپ سے شرم آنے لگی۔ اس نے گاؤں جانا چھوڑ دیا۔ فون بھی کبھی کبھار ہی کرتا۔ ماں جب فون کرتی تو وہ کہتا امی میں میٹنگ میں ہوں، بعد میں بات کروں گا۔ ماں سارا دن اسی آس میں بیٹھی رہتی کہ بیٹے کا فون آئے گا۔

ایک دن اس کے باپ کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہو گئی۔ باپ کو شدید بخار تھا اور وہ مسلسل اپنے بیٹے رشید کا نام لے رہا تھا۔ ماں نے رو رو کر رشید کو فون کیا اور کہا، "بیٹا گھر آ جا، تیرے باپ تجھے بہت یاد کر رہے ہیں، ان کی طبیعت بہت خراب ہے، وہ تجھے دیکھنا چاہتے ہیں۔"

رشید نے بے رحمی سے بہانہ بنا دیا کہ آفس میں بہت ضروری کام ہے، میرا آنا ممکن نہیں، تم ڈاکٹر کو دکھا دو۔ ماں بیچاری کیا کرتی، اس نے گاؤں کے حکیم سے دوا لے لی۔

کچھ دن بعد اس کا باپ اس دنیا سے چلا گیا۔ وہ اپنے بیٹے کو دیکھنے کی حسرت دل میں لیے ہی اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔ جب باپ کا انتقال ہوا تو گاؤں والوں نے رشید کو اطلاع دی۔ رشید نے کہا کہ مجھے چھٹی نہیں مل رہی، آپ لوگ جنازہ پڑھا دیں۔ وہ اپنے باپ کے جنازے پر بھی نہ آیا۔ پورے گاؤں نے اس کی اس حرکت پر لعنت بھیجی۔


*ماں کی بددعا نہیں، آنسو*

باپ کے مرنے کے بعد ماں اس چھوٹے سے کچے گھر میں بالکل اکیلی رہ گئی۔ گاؤں والوں نے کہا کہ اب تو اپنے بیٹے کے پاس شہر چلی جاؤ، یہاں اکیلی کیسے رہو گی۔ لیکن اس مظلوم ماں نے بڑا ہی درد بھرا جواب دیا۔ اس نے کہا، "جس بیٹے کو اپنے باپ کے جنازے میں کندھا دینے کا وقت نہیں ملا، اس کے گھر میں بھلا میری کیا جگہ ہوگی؟ میں اپنے شوہر کی اسی نشانی میں ہی اپنی زندگی گزار لوں گی۔"

ماں نے کبھی اپنے بیٹے کو بددعا نہیں دی۔ ماں تو ایسی ہستی ہے جو اولاد کے لاکھ ظلم سہہ کر بھی دعا ہی دیتی ہے۔ لیکن اس کے آنسو ہر روز اس کی چٹائی کو بھگوتے تھے۔ وہ ہر نماز کے بعد اپنے بیٹے کی ہدایت کے لیے دعا کرتی۔

ادھر شہر میں رشید کی زندگی بھی آہستہ آہستہ خراب ہونے لگی۔ جس کاروبار میں بھی ہاتھ ڈالتا، نقصان ہو جاتا۔ جس پر بھروسہ کرتا وہی دھوکہ دے جاتا۔ گھر میں بھی سکون نہیں تھا۔ روز بیوی سے لڑائی جھگڑے رہنے لگے۔ اس کے اپنے بچے بھی اس کی بات نہیں سنتے تھے، اس کے سامنے اونچی آواز میں بات کرتے تھے۔ وہ اندر سے بہت پریشان اور بے سکون رہنے لگا۔ اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ آخر اس کے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔

ایک رات اس نے ایک بہت خوفناک خواب دیکھا۔ اس نے دیکھا کہ وہ ایک قبرستان میں کھڑا ہے اور اس کا باپ ایک اندھیری قبر میں کھڑا ہے اور روتے ہوئے کہہ رہا ہے، "بیٹا تو نے مجھے آخری وقت میں اکیلا کیوں چھوڑ دیا تھا؟ میں تجھے دیکھنے کے لیے ترس گیا تھا۔" رشید کی اچانک آنکھ کھل گئی، وہ پسینے میں شرابور تھا اور اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔

اس رات اسے پہلی بار احساس ہوا کہ جو کچھ اس کے ساتھ ہو رہا ہے، وہ ماں باپ کی ناقدری اور ان کے دل دکھانے کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ اسے قرآن پاک کی وہ آیت یاد آئی جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ "اور اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرو، اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اف تک نہ کہو اور نہ انہیں جھڑکو بلکہ ان سے عزت و اکرام سے بات کرو۔"


*ماں سے معافی اور زندگی میں برکت*

اگلی صبح ہوتے ہی رشید نے سب کچھ چھوڑا اور سیدھا گاؤں کے لیے نکل پڑا۔ اس کا دل بہت بے چین تھا۔ جب وہ کئی سالوں بعد اپنے اس کچے گھر میں پہنچا تو اس نے دیکھا کہ اس کی بوڑھی ماں ایک پھٹی ہوئی چٹائی پر بیٹھی تسبیح کر رہی ہے، اس کی آنکھیں کمزور ہو چکی تھیں اور کمر جھک چکی تھی۔

ماں نے جب اتنے سالوں بعد اپنے بیٹے کو دیکھا تو اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ رشید دوڑ کر اپنی ماں کے قدموں میں گر گیا اور زور زور سے رونے لگا۔ اس نے کہا، "ماں مجھے معاف کر دے، میں نے بہت بڑا گناہ کیا ہے، میں نے تیرے اور باپ کے ساتھ بہت برا سلوک کیا ہے، مجھے معاف کر دے۔"

ماں تو ماں ہوتی ہے، اس نے تو اپنے بیٹے کو کب کا معاف کر دیا تھا۔ ماں کبھی بھی اپنے بچوں سے ناراض نہیں رہتی، چاہے بچے کتنے ہی نافرمان کیوں نہ ہوں۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے رشید کو گلے لگا لیا اور کہا، "بیٹا میں نے تجھے معاف کیا، اللہ بھی تجھے معاف کرے۔ بس تو ایک بات یاد رکھ، ماں باپ کی قدر کرنا سیکھ لے، یہ دروازہ ایک بار بند ہو جائے تو پھر ساری زندگی کھلا نہیں ملتا۔"

اس دن کے بعد رشید اپنی ماں کو عزت کے ساتھ شہر لے آیا۔ اس نے اپنی ماں کی دن رات خدمت کی، اپنے ہاتھوں سے اسے کھانا کھلاتا، اس کے پاؤں دباتا۔ اس کی بیوی نے بھی جب یہ سارا منظر دیکھا تو اسے بھی اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ اور پھر اللہ تعالیٰ نے رشید کے رزق میں دوبارہ برکت دے دی۔ اس کا کاروبار پھر سے چلنے لگا اور اس کے گھر میں سکون آ گیا۔


*اس واقعہ سے ملنے والے 3 بڑے اسباق*

اس سبق آموز کہانی سے ہمیں 3 بڑے اسباق ملتے ہیں جنہیں ہمیں اپنی زندگی میں کبھی نہیں بھولنا چاہیے:

1.  *ماں باپ کی دعا جنت ہے:* یاد رکھو اگر تمہارے ماں باپ تم سے راضی ہیں تو اللہ بھی تم سے راضی ہے اور اگر وہ ناراض ہیں تو اللہ بھی ناراض ہے۔ ان کی دعا سے بگڑے ہوئے کام بھی بن جاتے ہیں اور ان کی ناراضگی سے بنے ہوئے کام بھی بگڑ جاتے ہیں۔

2.  *وقت کبھی واپس نہیں آتا:* آج آپ کے ماں باپ آپ کے پاس ہیں، ان کی قدر کر لو۔ ان کے پاس بیٹھو، ان سے باتیں کرو، ان کی خدمت کرو۔ کل جب یہ ہاتھ دعا کے لیے نہیں اٹھیں گے، جب یہ سایہ سر سے اٹھ جائے گا تو پھر پچھتاوے کے سوا کچھ بھی نہیں بچے گا۔

3.  *جیسا کرو گے ویسا بھرو گے:* یہ دنیا مکافات عمل ہے۔ آج آپ اپنے ماں باپ کے ساتھ جیسا سلوک کرو گے، کل آپ کی اولاد آپ کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرے گی۔ اگر آج آپ نے اپنے ماں باپ کو عزت دی تو کل آپ کی اولاد آپ کو عزت دے گی۔

آخر میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ ہم سب کو اپنے ماں باپ کی خدمت کرنے اور ان کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی