حضرت سلیمانؑ اور ہدہد کا واقعہ - ملکہ بلقیس اور تخت کا قصہ

Hazrat Suleman AS Aur Hudhud Ka Waqia - Malka Bilqees Aur Takht Ka Qissa

حضرت سلیمان علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے عظیم پیغمبر اور بادشاہ تھے۔ آپ حضرت داؤد علیہ السلام کے بیٹے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسی عظیم الشان حکومت عطا فرمائی تھی جو نہ آپ سے پہلے کسی کو ملی اور نہ آپ کے بعد قیامت تک کسی کو ملے گی۔ آپ نے اللہ سے دعا کی تھی کہ اے میرے رب مجھے ایسی بادشاہت دے جو میرے بعد کسی کو لائق نہ ہو، تو اللہ نے آپ کی دعا قبول فرمائی۔

اللہ نے آپ کو انسانوں، جناتوں، پرندوں اور ہوا تک پر حکومت دی تھی۔ آپ جانوروں اور پرندوں کی بولیاں بھی سمجھتے تھے۔ آپ کا لشکر اتنا بڑا تھا کہ جب وہ سفر کرتا تو پرندے ان پر سایہ کرتے تھے تاکہ آپ کے لشکر کو دھوپ نہ لگے۔ قرآن پاک کی سورہ نمل میں آپ کے اس عجیب و غریب واقعہ کا ذکر ہے جو ایک چھوٹے سے پرندے ہدہد سے جڑا ہوا ہے۔


*لشکر کا جائزہ اور ہدہد کی غیر حاضری*

ایک دن حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنے تمام لشکر کا جائزہ لینے کا ارادہ کیا۔ آپ ایک کھلے میدان میں تخت پر بیٹھے اور آپ کے تمام لشکر اپنی اپنی صفوں میں کھڑے ہو گئے۔ انسانوں کی صف الگ، جناتوں کی صف الگ اور پرندوں کی صف الگ تھی۔ ہر کوئی اپنے بادشاہ کے حکم کا منتظر تھا۔

جب آپ نے پرندوں کی صف کو دیکھا تو آپ نے محسوس کیا کہ اس میں ایک پرندہ موجود نہیں ہے جس کا نام ہدہد تھا۔ ہدہد ایک بہت ہی ہوشیار اور سمجھدار پرندہ تھا، اس میں یہ خاص خوبی تھی کہ وہ زمین کے اندر موجود پانی کو اوپر سے ہی دیکھ لیتا تھا کہ یہاں میٹھا پانی ہے۔ اس لیے حضرت سلیمان اسے صحراؤں میں پانی تلاش کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔

قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اور اس نے پرندوں کا جائزہ لیا تو کہا کیا ہوا کہ میں ہدہد کو نہیں دیکھ رہا، کیا وہ غیر حاضر ہے؟"

حضرت سلیمان علیہ السلام کو اس کی غیر حاضری پر جلال آ گیا۔ آپ نے فرمایا اگر ہدہد بغیر کسی اجازت کے کہیں گیا ہے تو میں اسے سخت سزا دوں گا یا اسے ذبح کر دوں گا، ہاں اگر وہ کوئی واضح دلیل اور معقول عذر لے کر آئے تو بات دوسری ہے۔ ایک بادشاہ کے لیے نظم و ضبط بہت ضروری ہوتا ہے۔


*ہدہد کی واپسی اور یمن کی حیران کن خبر*

تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ ہدہد حاضر ہو گیا۔ وہ ڈرا سہما ہوا تھا لیکن اس کے پاس ایک بہت بڑی خبر تھی۔ اس نے عرض کیا، "اے اللہ کے نبی، میں ایک ایسی خبر لایا ہوں جو آپ کو معلوم نہیں ہے اور میں ملک سبا یعنی یمن سے ایک یقینی اور سچی خبر لے کر آیا ہوں۔"

ہدہد نے کہا، "میں نے وہاں دیکھا کہ ایک عورت ہے جو سبا کی قوم پر حکومت کرتی ہے، اس کا نام ملکہ بلقیس ہے۔ اللہ نے اس کو ہر طرح کی نعمتیں عطا کی ہیں، اس کا ملک بہت خوشحال ہے۔ اور اس کا ایک بہت بڑا تخت ہے جو سونے، چاندی اور ہیرے جواہرات سے جڑا ہوا ہے، اتنا بڑا تخت میں نے آج تک نہیں دیکھا۔"

لیکن پھر ہدہد نے افسوس سے کہا، "لیکن میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کو چھوڑ کر سورج کی پوجا کرتی ہے۔ شیطان نے ان کے برے اعمال کو ان کے لیے خوبصورت بنا کر انہیں سیدھے راستے سے روک دیا ہے، اس لیے وہ ہدایت پر نہیں آتے۔ وہ اس اللہ کو سجدہ نہیں کرتے جو آسمانوں اور زمین کی چھپی ہوئی چیزوں کو نکالتا ہے۔"

حضرت سلیمان علیہ السلام نے ہدہد کی یہ بات سن کر فرمایا، "ہم ابھی دیکھ لیتے ہیں کہ تم سچ کہہ رہے ہو یا تم جھوٹے ہو۔ میرا یہ خط لے جاؤ اور اسے ان کی طرف ڈال دو، پھر ایک طرف ہٹ کر دیکھو کہ وہ اس کا کیا جواب دیتے ہیں۔"


*ملکہ بلقیس کو حضرت سلیمان کا خط*

ہدہد وہ خط اپنی چونچ میں لے کر اڑا اور سیدھا یمن میں ملکہ بلقیس کے شاہی محل میں پہنچ گیا۔ ملکہ اپنے شاہی محل میں اپنے تخت پر بیٹھی تھی۔ ہدہد نے وہ خط اس کی گود میں پھینک دیا اور ایک کھڑکی میں چھپ کر بیٹھ گیا۔


جب ملکہ بلقیس نے خط کھولا تو اس میں لکھا تھا:

*"بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ یہ خط سلیمان کی طرف سے ہے۔ میرے مقابلے میں تکبر نہ کرو اور فرمانبردار ہو کر میرے پاس حاضر ہو جاؤ۔"*

یہ چھوٹا سا خط لیکن اس میں بہت زیادہ رعب اور طاقت تھی۔ ملکہ بلقیس بہت عقلمند اور دور اندیش عورت تھی، اس نے فوراً اپنے تمام سرداروں اور وزیروں کو دربار میں جمع کیا۔

اس نے کہا، "اے سردارو! میری طرف ایک بہت ہی عزت والا خط پھینکا گیا ہے جو سلیمان کی طرف سے آیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ تکبر نہ کرو اور اطاعت کرتے ہوئے میرے پاس آ جاؤ۔ اے سردارو! مجھے اس معاملے میں مشورہ دو، میں تمہارے بغیر کوئی حتمی فیصلہ نہیں کرتی۔"

درباری سرداروں نے اپنی طاقت پر فخر کرتے ہوئے کہا، "ہم بہت طاقتور اور سخت جنگجو قوم ہیں، ہمارے پاس بڑی فوج ہے، لیکن فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے، آپ دیکھیں آپ کیا حکم دیتی ہیں، ہم لڑنے کے لیے تیار ہیں۔"

لیکن ملکہ عقلمند تھی، اس نے کہا، "بادشاہ جب کسی بستی میں زبردستی داخل ہوتے ہیں تو اسے برباد کر دیتے ہیں اور وہاں کے عزت والوں کو ذلیل کر دیتے ہیں۔ ایسا ہی یہ بھی کریں گے۔ میں اس طرح کرتی ہوں کہ میں انہیں کچھ قیمتی تحفے بھیج کر آزماتی ہوں کہ وہ کس قسم کے بادشاہ ہیں، اگر وہ دنیا دار بادشاہ ہیں تو تحفے قبول کر لیں گے اور اگر وہ واقعی اللہ کے نبی ہیں تو وہ تحفوں کو قبول نہیں کریں گے۔"

چنانچہ ملکہ بلقیس نے سونے چاندی کی اینٹیں، ہیرے جواہرات اور بہت سے قیمتی تحفے ایک قاصد کے ساتھ حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں بھیجے۔


*تحفوں سے انکار اور تخت لانے کا حکم*

جب وہ قاصد وہ قیمتی تحفے لے کر حضرت سلیمان علیہ السلام کے دربار میں پہنچا تو آپ نے اسے دیکھ کر فرمایا، "کیا تم لوگ مال سے میری مدد کرنا چاہتے ہو؟ جو کچھ اللہ نے مجھے عطا کیا ہے وہ اس سے کہیں بہتر ہے جو تمہیں دیا ہے۔ تم ہی اپنے تحفوں پر خوش رہو۔ واپس اپنی ملکہ کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ ہم ان پر ایسے لشکروں کے ساتھ آئیں گے جن کا مقابلہ وہ کبھی نہیں کر سکیں گے اور ہم انہیں ذلیل کر کے وہاں سے نکال دیں گے۔"

جب قاصد نے واپس جا کر ملکہ کو یہ سارا ماجرا سنایا تو ملکہ سمجھ گئی کہ یہ کوئی عام بادشاہ نہیں ہے، یہ تو اللہ کے نبی ہیں، ان کا مقابلہ کرنا ممکن نہیں۔ اس نے فیصلہ کیا کہ میں خود حضرت سلیمان کے پاس جاتی ہوں۔

ادھر حضرت سلیمان علیہ السلام کو اللہ نے بتا دیا کہ ملکہ بلقیس آپ کے پاس آ رہی ہے۔ آپ نے اپنے دربار میں موجود جناتوں اور انسانوں سے کہا، "اے درباریو! تم میں سے کون ہے جو ملکہ بلقیس کا وہ عظیم تخت میرے پاس لے آئے اس سے پہلے کہ وہ فرمانبردار ہو کر میرے پاس آئے؟ میں چاہتا ہوں کہ اس کے آنے سے پہلے اس کا تخت میرے پاس ہو۔"

ایک بہت طاقتور جن جس کا نام عفریت تھا، اس نے کہا، "میں اس تخت کو آپ کے دربار ختم ہونے سے پہلے، یعنی شام سے پہلے لے آؤں گا اور میں اس پر طاقت رکھتا ہوں اور امانت دار ہوں۔"


حضرت سلیمان نے فرمایا مجھے اس سے بھی جلدی چاہیے۔

تب آپ کے وزیر آصف بن برخیا، جن کے پاس کتاب یعنی اسم اعظم کا علم تھا، انہوں نے کہا، "میں اسے آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے لے آؤں گا۔" حضرت سلیمان نے ابھی پلک بھی نہ جھپکی تھی کہ ملکہ بلقیس کا وہ سونے چاندی سے جڑا ہوا تخت آپ کے سامنے موجود تھا۔

حضرت سلیمان نے یہ دیکھ کر اللہ کا شکر ادا کیا اور فرمایا، "یہ میرے رب کے فضل سے ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری۔"

پھر آپ نے فرمایا اس تخت کی شکل تھوڑی سی بدل دو، اس میں کچھ رد و بدل کر دو تاکہ ہم دیکھیں کہ ملکہ اسے پہچانتی ہے یا نہیں۔


*ملکہ بلقیس کا ایمان لانا*

جب ملکہ بلقیس حضرت سلیمان کے دربار میں حاضر ہوئی تو اس سے پوچھا گیا، "کیا تمہارا تخت ایسا ہی ہے؟" ملکہ نے تخت کو دیکھا، وہ بالکل اس کے اپنے تخت جیسا تھا لیکن اس میں تھوڑی تبدیلی تھی۔ اپنی عقلمندی سے اس نے کہا، "گویا یہ وہی ہے۔"

پھر حضرت سلیمان علیہ السلام اسے اپنے محل میں لے گئے۔ آپ کا محل شیشے کا بنا ہوا تھا، اس کے فرش پر شفاف شیشہ لگا تھا اور اس کے نیچے پانی بہہ رہا تھا۔ جب ملکہ نے اسے دیکھا تو اس نے اسے گہرا پانی سمجھا اور ڈر کے مارے اپنے کپڑے پنڈلیوں تک اٹھا لیے تاکہ کپڑے گیلے نہ ہوں۔

حضرت سلیمان نے فرمایا، "یہ پانی نہیں ہے بلکہ یہ شیشے کا بنا ہوا محل ہے۔"

اس وقت ملکہ بلقیس کو یقین ہو گیا کہ یہ انسانوں کی طاقت نہیں، یہ اللہ کے نبی کی شان ہے۔ اس کی آنکھیں کھل گئیں۔ اس نے کہا، "اے میرے رب! بے شک میں نے اپنی جان پر ظلم کیا تھا کہ سورج کی پوجا کرتی رہی اور اب میں سلیمان کے ساتھ اللہ رب العالمین پر ایمان لاتی ہوں۔"

اس طرح ایک چھوٹے سے پرندے ہدہد کی دعوت کی وجہ سے ایک پوری قوم، ملکہ بلقیس سمیت مسلمان ہو گئی۔

*اس واقعہ سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟*

1.  اگر آپ کے پاس چھوٹا سا ہنر یا علم بھی ہے تو اسے دین کی خدمت کے لیے استعمال کریں، جیسے ایک چھوٹے سے ہدہد نے اتنا بڑا کام کیا کہ ایک پوری قوم کو ہدایت مل گئی۔

2.  ہمیشہ حق کو قبول کرنے میں ہی عقلمندی ہے، جیسے ملکہ بلقیس نے ضد اور تکبر نہیں کیا بلکہ حق کو دیکھتے ہی قبول کر لیا۔

3.  اللہ اپنے دین کی مدد کسی سے بھی لے سکتا ہے، چاہے وہ ایک چھوٹا سا پرندہ ہی کیوں نہ ہو۔

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی