حضرت یوسفؑ کا واقعہ - خواب سے تخت تک کا سفر

Hazrat Yousuf AS Ka Waqia - Khwab Se Takht Tak Ka Safar


حضرت یوسف علیہ السلام حضرت یعقوب علیہ السلام کے سب سے پیارے بیٹے تھے۔ آپ کا واقعہ قرآن پاک کی سورہ یوسف میں بڑی تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود اس قصے کو "احسن القصص" یعنی قصوں میں سب سے بہترین قصہ قرار دیا ہے۔ اس واقعہ میں صبر، تقویٰ، معافی، اور خواب سے حقیقت تک کا ایسا سفر ہے جو ہر مومن کے دل کو چھو لیتا ہے۔


*بچپن کا خواب*

حضرت یوسف علیہ السلام نے بچپن میں ایک عجیب خواب دیکھا۔ آپ نے دیکھا کہ 11 ستارے، سورج اور چاند آپ کو سجدہ کر رہے ہیں۔ یہ کوئی عام خواب نہیں تھا۔

آپ نے صبح اٹھ کر یہ خواب اپنے والد حضرت یعقوب علیہ السلام کو سنایا جو خود بھی اللہ کے نبی تھے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام سمجھ گئے کہ یہ خواب بہت عظیم ہے۔ اس کی تعبیر یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو نبوت اور بہت بڑا مقام عطا فرمائے گا اور آپ کے والدین اور 11 بھائی آپ کے سامنے جھکیں گے۔

حضرت یعقوب نے اپنے پیارے بیٹے سے فرمایا، "اے میرے بیٹے! اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں کو ہرگز نہ بتانا، ورنہ وہ حسد میں آ کر تمہارے خلاف کوئی سازش کریں گے، بے شک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔" حضرت یعقوب حضرت یوسف سے سب سے زیادہ محبت کرتے تھے کیونکہ آپ میں نبوت کے آثار نظر آتے تھے۔ اسی محبت کی وجہ سے آپ کے 10 سوتیلے بھائی آپ سے حسد کرنے لگے۔


*کنویں میں پھینکنے کی سازش*

ایک دن بھائیوں نے آپس میں مشورہ کیا اور کہا کہ ہمارے والد ہم سے زیادہ یوسف اور اس کے سگے بھائی بنیامین سے محبت کرتے ہیں، حالانکہ ہم زیادہ طاقتور ہیں۔ کیوں نہ ہم یوسف کو کسی طرح راستے سے ہٹا دیں تاکہ والد کی ساری توجہ ہماری طرف ہو جائے۔

انہوں نے ایک خطرناک منصوبہ بنایا۔ وہ اپنے والد کے پاس آئے اور کہنے لگے، "ابا جان! آپ یوسف کے بارے میں ہم پر بھروسہ کیوں نہیں کرتے؟ کل اسے ہمارے ساتھ جنگل میں کھیلنے کے لیے بھیج دیں، وہ ہمارے ساتھ کھیلے گا اور ہم اس کی حفاظت کریں گے۔"

حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا مجھے ڈر ہے کہ کہیں تم کھیل میں مصروف ہو جاؤ اور اسے بھیڑیا کھا جائے۔ بھائیوں نے کہا ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ والد کے بہت اصرار پر حضرت یعقوب نے اجازت دے دی۔

جنگل میں لے جا کر بھائیوں نے اپنا اصل رنگ دکھایا۔ انہوں نے حضرت یوسف کی قمیض اتار لی اور آپ کو ایک اندھے اور خوفناک کنویں میں پھینک دیا۔ وہ کنواں اتنا گہرا تھا کہ اس میں پانی بھی نہیں تھا۔ اللہ نے حضرت یوسف کو الہام کیا کہ گھبراؤ نہیں، ایک دن تم ان کو ان کا یہ کرتوت یاد دلاؤ گے۔

پھر بھائیوں نے ایک بکری ذبح کی اور اس کا جھوٹا خون حضرت یوسف کی قمیض پر لگا دیا اور شام کو روتے ہوئے واپس آئے اور کہا، "ابا جان! ہم دوڑ کا مقابلہ کر رہے تھے اور یوسف کو اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا تھا، اتنے میں ایک بھیڑیا آ کر اسے کھا گیا۔ آپ ہماری بات کا یقین نہیں کریں گے چاہے ہم سچے ہی ہوں۔"

حضرت یعقوب نے وہ قمیض دیکھی جو خون سے بھری ہوئی تھی لیکن بالکل بھی پھٹی ہوئی نہیں تھی۔ ایک عقلمند نبی سمجھ گئے کہ بھیڑیا اگر کھاتا تو قمیض بھی پھٹتی۔ انہوں نے فرمایا، "تمہارے نفس نے تمہارے لیے ایک بات بنا لی ہے، اب میرے لیے صبر جمیل یعنی بہترین صبر ہی بہتر ہے اور جو تم بیان کر رہے ہو اس پر اللہ ہی سے مدد مانگی جاتی ہے۔"


*مصر کے بازار میں غلام بنا کر بیچنا*

ادھر کنویں میں اللہ نے حضرت یوسف کی حفاظت کی۔ کچھ دن بعد ایک قافلہ جو مصر جا رہا تھا، وہاں سے گزرا۔ انہوں نے پانی نکالنے کے لیے اپنا ڈول کنویں میں ڈالا۔ حضرت یوسف اس ڈول سے لٹک کر باہر آ گئے۔ قافلے والوں نے ایک نہایت خوبصورت بچے کو دیکھا تو خوش ہو گئے اور کہا یہ تو بہت قیمتی غلام ہے، ہم اسے بیچ کر بہت پیسہ کمائیں گے۔

وہ قافلہ آپ کو مصر لے گیا اور مصر کے بازار میں آپ کو نیلام کر دیا۔ مصر کے بادشاہ کے وزیر خزانہ جس کا لقب عزیز مصر تھا، اس نے آپ کو بہت بھاری قیمت پر خرید لیا۔ اس نے اپنی بیوی زلیخا سے کہا کہ اس لڑکے کو عزت سے رکھو، شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنا لیں۔ اس طرح حضرت یوسف ایک غلام سے شاہی محل میں پہنچ گئے۔


*زلیخا کا واقعہ اور جیل کی زندگی*

حضرت یوسف جب جوان ہوئے تو اللہ نے آپ کو بے پناہ حسن عطا فرمایا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اللہ نے دنیا کا آدھا حسن حضرت یوسف کو دیا تھا۔ زلیخا جو عزیز مصر کی بیوی تھی، وہ آپ پر فریفتہ ہو گئی۔

ایک دن اس نے محل کے تمام دروازے بند کر دیے اور حضرت یوسف کو گناہ کی دعوت دی۔ حضرت یوسف نے اللہ کے خوف سے کانپتے ہوئے فرمایا، "معاذ اللہ! میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، بے شک وہ میرا آقا ہے جس نے مجھے اچھی طرح رکھا ہے۔"

آپ گناہ سے بچنے کے لیے دروازے کی طرف بھاگے، زلیخا نے پیچھے سے آپ کو پکڑنے کے لیے آپ کی قمیض کھینچی جس سے وہ پیچھے سے پھٹ گئی۔ جیسے ہی دروازہ کھلا سامنے عزیز مصر کھڑا تھا۔ زلیخا نے فوراً جھوٹا الزام لگا دیا کہ اس غلام نے آپ کی بیوی کے ساتھ برا ارادہ کیا ہے۔

اس وقت عزیز کے خاندان کے ایک سمجھدار شخص نے فیصلہ کیا اور کہا کہ اگر قمیض آگے سے پھٹی ہے تو عورت سچی ہے اور یوسف جھوٹا ہے، اور اگر قمیض پیچھے سے پھٹی ہے تو یوسف سچا ہے اور عورت جھوٹی ہے۔ جب دیکھا گیا تو قمیض پیچھے سے پھٹی ہوئی تھی، اس لیے حضرت یوسف سچے ثابت ہو گئے۔ لیکن اپنی عزت اور بد نامی سے بچنے کے لیے عزیز نے حضرت یوسف کو جیل میں ڈال دیا۔

حضرت یوسف نے جیل کو محل کی گناہ بھری زندگی پر ترجیح دی۔ آپ نے فرمایا اے میرے رب! مجھے جیل اس گناہ سے زیادہ پسند ہے جس کی طرف یہ عورتیں مجھے بلا رہی ہیں۔

جیل میں بھی اللہ نے آپ کو عزت دی۔ وہاں دو قیدیوں نے خواب دیکھے۔ ایک نے دیکھا کہ وہ شراب نچوڑ رہا ہے اور دوسرے نے دیکھا کہ اس کے سر پر روٹیاں ہیں جنہیں پرندے کھا رہے ہیں۔ حضرت یوسف نے جو اللہ کی طرف سے خوابوں کی تعبیر کا علم رکھتے تھے، فرمایا کہ پہلا قیدی رہا ہو کر بادشاہ کو شراب پلائے گا اور دوسرے کو سولی دی جائے گی۔ ایسا ہی ہوا۔


*بادشاہ کا خواب اور وزارت خزانہ*

کئی سال بعد مصر کے بادشاہ نے ایک عجیب خواب دیکھا کہ 7 موٹی تازی گائیں ہیں جن کو 7 دبلی پتلی گائیں کھا رہی ہیں، اور 7 سبز خوشے ہیں اور 7 خشک خوشے ہیں۔ بادشاہ نے تمام نجومیوں اور عالموں کو بلایا لیکن کوئی بھی اس کی تعبیر نہ بتا سکا۔

تب وہ ساقی جو جیل سے رہا ہوا تھا، اسے حضرت یوسف یاد آئے۔ اس نے کہا جیل میں ایک نوجوان ہے جو خواب کی صحیح تعبیر بتاتا ہے۔

حضرت یوسف نے تعبیر بتائی کہ 7 سال تک مصر میں خوب خوشحالی ہوگی، خوب فصلیں ہوں گی، پھر اس کے بعد 7 سال سخت قحط پڑے گا۔ اس لیے تمہیں چاہیے کہ پہلے 7 سالوں میں اضافی اناج کو اس کے خوشوں سمیت محفوظ کر لو تاکہ قحط کے سالوں میں کام آ سکے۔

بادشاہ یہ حکمت بھری تعبیر سن کر بہت خوش ہوا اور اس نے فوراً حضرت یوسف کو جیل سے نکالا اور آپ کی بے گناہی ثابت ہونے پر آپ کو مصر کا وزیر خزانہ بنا دیا۔


*بھائیوں سے ملاقات اور معافی کا عظیم درس*

جب قحط کے سال آئے تو ہر طرف قحط پڑ گیا۔ حضرت یعقوب کے علاقے میں بھی قحط تھا۔ حضرت یوسف کے بھائی اناج لینے کے لیے مصر آئے۔ حضرت یوسف تخت پر بیٹھے تھے، آپ نے اپنے بھائیوں کو فوراً پہچان لیا لیکن بھائی آپ کو نہ پہچان سکے۔

آپ نے ان کو اناج دیا اور فرمایا کہ اگلی بار اپنے سگے بھائی بنیامین کو بھی ساتھ لانا ورنہ تمہیں اناج نہیں ملے گا۔ جب وہ بنیامین کو لے کر آئے تو حضرت یوسف نے ایک حکمت سے اپنے بھائی بنیامین کو اپنے پاس روک لیا۔ بھائی بہت پریشان ہوئے۔

آخر کار حضرت یوسف نے فرمایا، "کیا تمہیں معلوم ہے کہ تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا تھا جب تم نادان تھے؟ میں ہی یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی بنیامین ہے۔ اللہ نے ہم پر احسان کیا ہے۔"

بھائی یہ سن کر رونے لگے اور شرمندہ ہو کر معافی مانگنے لگے۔ حضرت یوسف نے معافی کا وہ تاریخی جملہ کہا جو ہمارے نبی ﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر کہا تھا۔ آپ نے فرمایا، "آج تم پر کوئی ملامت نہیں، اللہ تمہیں معاف کرے، وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔"

پھر آپ نے اپنی قمیض دی اور کہا اسے لے جاؤ اور میرے والد کی آنکھوں پر ڈال دو، ان کی آنکھیں جو میرے غم میں رو رو کر چلی گئی تھیں، اللہ کے حکم سے واپس آ جائیں گی۔


*خواب کی تعبیر کا پورا ہونا*

جب وہ قمیض حضرت یعقوب کی آنکھوں پر ڈالی گئی تو ان کی بینائی واپس آ گئی۔ پھر حضرت یعقوب علیہ السلام اپنے تمام بیٹوں کے ساتھ مصر آ گئے۔

حضرت یوسف نے اپنے والدین کو تخت پر بٹھایا اور اس وقت آپ کے 11 بھائی اور والدین آپ کے سامنے سجدہ تعظیمی میں جھک گئے۔ یہ اس زمانے میں تعظیم کا سجدہ جائز تھا۔

تب حضرت یوسف نے فرمایا، "اے ابا جان! یہی میرے بچپن کے خواب کی تعبیر ہے، میرے رب نے اسے سچ کر دکھایا۔"


*اس واقعہ سے حاصل ہونے والا سبق*

اس عظیم واقعہ سے ہمیں کئی سبق ملتے ہیں۔ پہلا سبق یہ کہ صبر کا پھل ہمیشہ میٹھا ہوتا ہے۔ حضرت یوسف نے کنویں سے لے کر جیل تک صبر کیا تو اللہ نے انہیں تخت دیا۔ دوسرا سبق یہ کہ گناہ سے بچنے والے کو اللہ دنیا میں بھی عزت دیتا ہے۔ تیسرا اور سب سے بڑا سبق معاف کر دینا ہے۔ حضرت یوسف نے اپنے ظلم کرنے والے بھائیوں کو معاف کر کے دنیا کو بتا دیا کہ بدلہ لینے سے بڑا مقام معاف کرنے کا ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی