
اصحاب کہف کا واقعہ - 309 سال تک سونے والے 7 نوجوانوں کا ایمان افروز قصہ اور اس سے ملنے والے سبق
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ کیا کوئی انسان 300 سال سے زیادہ عرصہ تک سو سکتا ہے؟ سائنس کہتی ہے یہ ناممکن ہے، لیکن قرآن پاک ہمیں بتاتا ہے کہ یہ معجزہ ہو چکا ہے۔ یہ ہے اصحاب کہف کا حیران کن واقعہ۔
آج بھی اردن (Jordan) کے دارالحکومت عمان سے تقریباً 7 سے 8 کلومیٹر دور "الرقیم" نامی گاؤں میں ایک غار موجود ہے، جسے غارِ اصحاب کہف کہا جاتا ہے۔ وہاں آج بھی اس معجزے کی نشانیاں موجود ہیں۔
*واقعہ کا پس منظر:*
اس واقعہ کا زمانہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد کا ہے۔ اس وقت روم کی سلطنت تھی اور اس کا بادشاہ دقیانوس (Decius) بہت ظالم تھا۔ وہ خود کو خدا کہلواتا تھا اور لوگوں کو بتوں کی پوجا پر مجبور کرتا تھا۔ جو انکار کرتا اسے قتل کر دیا جاتا۔
اسی شہر افسوس (Ephesus) میں 7 نیک دل نوجوان رہتے تھے۔ تاریخ کی کتابوں میں ان کے نام مکسلمینا، تملیخا، مرطونس، وغیرہ بتائے جاتے ہیں۔ یہ شہر کے بڑے وزیروں اور امیروں کے بیٹے تھے، لیکن دل کے بہت نیک اور ایک اللہ پر ایمان رکھنے والے تھے۔
ایک دن بادشاہ نے ایک بہت بڑا میلہ لگایا جہاں سب کو بتوں کو سجدہ کرنا تھا۔ ان 7 نوجوانوں نے صاف انکار کر دیا اور کہا "ہمارا رب تو وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے، ہم اس کے سوا کسی کو نہیں پکاریں گے"۔
*غار کی طرف ہجرت:*
بادشاہ کو جب پتہ چلا تو اس نے انہیں دربار میں بلایا۔ پہلے تو اس نے انہیں سمجھایا، پھر دھمکایا کہ اگر تم باز نہ آئے تو تمہیں قتل کر دیا جائے گا۔ اس نے انہیں چند دن کی مہلت دی کہ سوچ لو۔
یہ نوجوان رات کے اندھیرے میں اپنے ایمان کو بچانے کے لیے شہر چھوڑ کر نکل گئے۔ راستے میں ایک کتا بھی ان کے پیچھے آ گیا۔ اس کتے کا نام قطمیر بتایا جاتا ہے۔ انہوں نے اسے بھگانے کی بہت کوشش کی لیکن وہ نہ گیا۔ آخر انہوں نے اسے اپنے ساتھ لے لیا۔
چلتے چلتے وہ ایک پہاڑ کے پاس پہنچے اور اس میں ایک بڑا غار دیکھا۔ وہ اس غار میں چھپ گئے اور اللہ سے دعا کی "اے ہمارے رب، ہمیں اپنی رحمت سے بچا لے"۔
*309 سال کی نیند کا معجزہ:*
اللہ تعالیٰ کو ان نوجوانوں کی یہ قربانی اتنی پسند آئی کہ اللہ نے ان پر نیند طاری کر دی۔ قرآن پاک میں اللہ فرماتا ہے "اور ہم نے ان کے کانوں پر گنتی کے کئی سال تک تھپکی دے کر سلا دیا"۔
یہ نیند عام نیند نہیں تھی۔ اللہ نے ان کی حفاظت کے لیے کائنات کے نظام کو بدل دیا۔
1. سورج جب نکلتا تو غار کے دائیں جانب سے ہوتا ہوا نکلتا اور جب غروب ہوتا تو بائیں جانب سے، تاکہ ان پر براہ راست دھوپ نہ پڑے اور ان کے جسم خراب نہ ہوں۔
2. اللہ فرشتوں کے ذریعے انہیں کروٹیں دلواتا رہتا، کبھی دائیں کروٹ، کبھی بائیں کروٹ، تاکہ ان کے جسم کو زمین نہ کھائے۔
3. ان کا کتا قطمیر غار کے دہانے پر اپنے دونوں بازو پھیلائے بیٹھا پہرہ دیتا رہا، تاکہ کوئی جنگلی جانور اندر نہ آ سکے۔
اس طرح وہ 309 سال تک سوتے رہے۔ قمری حساب سے 309 سال اور شمسی حساب سے 300 سال۔
*جب وہ بیدار ہوئے:*
309 سال بعد اللہ نے انہیں جگایا۔ جب وہ اٹھے تو انہیں لگا کہ وہ صرف ایک دن یا آدھا دن سوئے ہیں۔ انہیں بھوک لگی۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ ایک ساتھی کو شہر بھیج کر کھانا منگواتے ہیں۔
انہوں نے اپنے ایک ساتھی تملیخا کو کچھ سکے دے کر بازار بھیجا اور نصیحت کی کہ احتیاط سے جانا، کسی کو پتہ نہ چلے۔
جب وہ ساتھی بازار پہنچا تو سب کچھ بدلا ہوا تھا۔ شہر کے لوگ، عمارتیں، زبان، سب کچھ بدل چکا تھا۔ جب اس نے روٹی والے کو 300 سال پرانے زمانے کا سکہ دیا تو دکاندار حیران رہ گیا۔ اس نے سمجھا اسے کوئی خزانہ ملا ہے۔
لوگوں نے اسے پکڑ کر وقت کے بادشاہ کے پاس لے گئے۔ اس وقت نیک بادشاہ کی حکومت تھی جو اللہ پر ایمان رکھتا تھا۔ جب بادشاہ نے اس کی کہانی سنی تو وہ خود غار کی طرف گیا اور باقی ساتھیوں سے ملا۔
یہ خبر پورے شہر میں پھیل گئی کہ اللہ نے اپنے وعدے کو سچا کر دکھایا۔ اس کے کچھ دیر بعد اللہ نے ان سب کو دوبارہ اپنے پاس بلا لیا اور وہ وہیں وفات پا گئے۔
*اس واقعہ سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟*
1. *ایمان کی طاقت:* اگر ایمان سچا ہو تو اللہ ناممکن کو ممکن بنا دیتا ہے۔
2. *صحبت صالحہ:* نیک دوست انسان کو جنت تک لے جاتے ہیں، جیسے ان 7 نوجوانوں نے ایک دوسرے کا ساتھ دیا۔ یہاں تک کہ ان کا کتا بھی ان کی صحبت کی وجہ سے جنتی بن گیا۔
3. *اللہ پر توکل:* جب انسان اپنا گھر، مال، سب کچھ اللہ کے لیے چھوڑ دیتا ہے تو اللہ خود اس کی حفاظت کرتا ہے۔
اللہ ہمیں بھی اصحاب کہف جیسا مضبوط ایمان عطا فرمائے۔ آمین۔